برہماور،3؍نومبر(ایس او نیوز) ماضیٔ قریب میں کانگریس حکومت کی طرف سے کمزور طبقات کے لئے ایک روپے فی کلو کے حساب سے ماہانہ 30 کلو چاول فراہم کرنے کے لئے جاری کی گئی ’’اَنّا بھاگیہ‘‘ اسکیم کا ناجائز فائدہ اٹھانا ایک عام بات ہوگئی ہے۔ سرکاری افسران کی ملی بھگت سے غریبوں کا حق مار کر یہ چاول غیر قا نونی طور پر دکانداروں کو فروخت کرنے کے واقعات اکثر سامنے آرہے ہیں۔
حالیہ معاملہ اڈپی ضلع کے برہماور تعلقہ کا ہے جہاں مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر’کیلمرگی‘ میں واقع ’رائس مِل‘ پر ضلع ڈپٹی کمشنر جگدیشااور دیگر افسران نے چھاپہ ماری کی اور غیر قانونی طور پر فروخت کیا گیاانّا بھاگیہ اسکیم کا 600 کوئنٹل چاول ضبط کرلیا، جس کی قیمت16.5لاکھ روپےبتائی جاتی ہے۔
موصولہ تفصیلات کے مطابق راشن کارڈ پر فروخت کے لئے حکومت کی طرف سے فراہم کردہ 600کوئنٹل چاول کے علاوہ اس کی غیر قانونی فروخت کے لئے استعمال کیے جانے والے ۶ٹرکس، 3ٹیمپواورایک ماروتی ایکو کار ضطب کرلی گئی۔ اس کے علاوہ ڈرائیوروں اور کلینرس کو بھی حراست میں لیا گیا۔
یادرہے کہ گزشتہ مہینے میں بھی کنداپور کے ایک مقام پر اسی طرح چھاپہ مار کر ضلع انتظامیہ نے انابھاگیہ اسکیم کو 600کوئنٹل چاول ضبط کرلیا تھا جو غیر قانونی طور پر فروخت کیا گیا تھا۔ ضلع انتظامیہ کے افسران کا کہنا ہے کہ اس طرح سرکاری اسکیموں کاناجائز اٹھانے والوں پر لگام کسنا اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب عوام بیدار ہوجائیں اور اس قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاع ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ افسران تک پہنچائیں۔